Nation of Pakistan

Nation of Pakistan
Yes, We can bring change in Pakistan

Friday, July 1, 2011

God sake Wake up Pakistan! Q.Aziz


God Sake Pakistan

I am a raw person like any other ordinary people and never ever call myself a professional writer nor a journalist but I am a human being like anyone in this world and love the country where I was born which is natural. At times I feel sad, and disturbed like anyone, whenever I read or watch 99% of Pakistanis in a situation where ordinary people are suffering so badly, innocent killings, target killings, all the suffering, families suicidal due to starving in Pakistan, even when the incidents of GHQ, Mehran Navel, killings of two youngsters by the US culprit Raymond Davis and then his escape from Pakistan with the help of Pakistan authorities, killings of journalist, and young man’s killing by the Rangers and these all did not stopped its going on every day in all over Pakistan and what we all are doing just reading or watching and feel sorry, show our anger for a day or two or even for a week and listen to the Government officials that they will bring all the culprits into justice. We feel satisfied when our Government announces that they will give so much money to the families who lost their loved ones in those acts. We are very firm and never miss any chance to discuss these incidences while sitting with friends or in big gathering. Why do we blame Pakistani talk shows where we are all somehow doing the same things? Why do we blame our corrupt Government, our politicians where we all know that they are all looters? Why do we all attend and listen to all these culprits when we know that they are not least sincere to people of Pakistan?

Wednesday, June 29, 2011

آخر اور کبتک یہ عیاشیوں کا بندر بانٹ | Q.Aziz

 
چونسٹھ سال ہونے کو ہیں ہمارے ملک پاکستان کو آزادی ملے جسکے لیے ہمارے بزرگوں نے اپنی آساٰیشیں، اپنی جانیں تک گنوای اس امید پر کہ انکے بچے اس ملک میں آزادی کے ساتھ پھولیں پھلیں، خوشحالی اور کامیابیوں کے ساتھ اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرینگے، جہاں صرف آپس میں محبتیں خلوص اور پیار ہو گا، ہم ایک آزاد ملک اور ایک پرچم کے ساے تلے دوسرے ملکوں کے ساتھ پایدار دوستی قایم کرینگے، کسی کو اپنا ماسٹرز بننے کی اجازت نہیں دینگے مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوسکاجسکے لیے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دی تھیں اور اپنا تن من دھن جسکے لیے لٹا دیا تھا اسکا ہمسب نے کیا حال کردیا ہے۔ ہم کیوں اور کیسے ہر سال چودہ اگست کو جشن آزادی مناتے ہیں جبکہ ہمارا بچہ بچہ قرض کے دلدل میں دھنسا ہوا ہے ۔ جہاں صرف اور صرف ایکدوسرے کے لیے نفرتیں ہیں، جہاں قتل و غارت کا بازار لگا ہوا ہے، حکمراں جماعت ہو یا اپوزیشن جماعتیں جو کہ اپنی عوام کے ڈالے گیے ووٹوں کے ذریعے نہیں بلکہ ہمیشہ جعلی ووٹوں کے ذریعے آکر اپنا حق سمہجتے ہیں کہ جتنا جس سے ممکن ہو عوام کی دولت کو لوٹ لیں ، عام عوام پر ٹیکس کا بوجھ زیادہ سے زیادہ ڈالتے رہیں اور خود اپنے بنکروں نما قلعے میں پولیس کے قافلے کے قافلے اپنی حفاظت پر مامور رکھیں جو کہ عام عوام کی حفاظت کے لیے ہوتی ہے، انلوگوں کو عوام کی پروا ہ کیوں ہو ، انہیں اس سے کیا کہ لوگ قتل ہورہے ہوں ، عورتوں کی عزت سے کھیلا جارہا ہو، معصوم بچوں کو اغوا کر کے معصوم جسموں کو بارود میں لپیٹ کر موت کے منہ میں ڈھکیلا جارہا ہو، آخر انکو ان سب سے کیا مطلب وہ یا انکے پیارے تو قتل نہیں ہورہے اور کبھی کوی ہوا بھی تو انکو اسکا کوی خاص افسوس نہیں بلکہ وہ تو اسکو بھی شہید بنا کر عوام سے ہمدردی حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں، انکی عورتوں کی عزتوں یا پھر انکے بچوں کی حفاظتیں تو کافی تعداد میں پولیس فورس کرتی ہی ہے تو انکو کس بات کا افسوس یا خوف ہو۔ ہمارے یہ لیڈران تو جب اپنی عوام سے ملنے بھی جاتے ہیں تو اپنی بلٹ پروف گاڑیوں میں گنوں سے لیس حفاظتی قافلے کے ساتھ اور پھر جب اپنی ہی عوام سے خطاب کرتے ہیں تو بھی کوسوں دور موٹے شیشوں کے پیچھے سے کیونکہ وہ سب جانتے ہیں کہ اگر ان سب کہ بغیر وہ عوام میں چلے گیے تو اگلے روز انکی بڑی سی تصویر اخباروں میں چھپی ہوگی اور اسکے ساتھ لکھا ہوگا کہ مرحوم نے اپنی زندگی اپنی عوام کو دیدی۔

Friday, February 11, 2011

Diplomatic immunity ! Q.Aziz

President Zardari’s Round Table Conference
 
When he suddenly persuade leaders of political parties to attend the round-table conference he has proposed to address important national issues. Every Pakistani even a child can tell that it’s not about national issues but that the conference is being convened because the government is facing unprecedented pressure over the issue of Raymond Davis, the American citizen and so called US embassy employee who is alleged to have killed two men in Lahore. The US pressure for his release will be a main issue at the conference.

Tuesday, January 18, 2011

Love for Masajid! | Nation of Pakistan

مسجدوں سے پیار کرنے والا انسان
ایک شخص نے یوں قصہ سنایا کہ
 میں اور میرے ماموں نے حسب معمول مکہ حرم شریف میں نماز جمعہ ادا کی اورگھر کو واپسی کیلئے روانہ  ہوئے۔ شہر سے باہر نکل کر سڑک کے کنارے کچھ  فاصلے پر ایک بے آباد سنسان مسجد آتی ہے، مکہ شریف کو آتے جاتے سپر ہائی وے سے بارہا گزرتے ہوئے اس جگہ اور اس مسجد پر ہماری نظر پڑتی  رہتی ہے اور ہم  ہمیشہ ادھر سے ہی گزر کر جاتے  ہیں مگر  آج جس  چیز نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی وہ تھی ایک نیلے رنگ کی فورڈ کار جو مسجد کی خستہ حال دیوار کے ساتھ کھڑی تھی، چند لمحے تو میں سوچتا رہا کہ اس کار کا اس سنسان مسجد کے پاس کیا کام! مگر اگلے لمحے میں نے کچھ جاننے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی کار کو  رفتار کم کرتے ہوئے مسجد کی طرف جاتی  کچی سائڈ روڈ پر ڈال دیا، میرا ماموں جو عام طور پر  واپسی کا سفر غنودگی میں گزارتا ہے اس نے بھی اپنی اپنی آنکھوں کو وا کرتے ہوئے میری طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھتا، کیا بات ہے، ادھر کیوں جا رہے ہو؟ 

Sunday, December 19, 2010

بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے Rashid Hussain

 
کہتے ہیں بحیثیت وزیر خارجہ 80 کی دہائ میں جب صاحبزادۃ یعقوب خاں بنگلہ دیش کے سرکاری دورے پر ڈھاکہ پہنچے تو انکے میزبانوں نے انہیں اس ہی گھر میں ٹہرایا جہاں کبھی وہ چیف مارشل لا ایڈمنسڈریڈرکی حیثیت میں رہتے تھے پر اب فرق صاف ظاھر تھا  ابکے وہ میزبان نہیں بلکے مہمان تھے چنانچہ جیسے ہی صاحبزادہ یعقوب کی گاڑی قیامگاہ کے پورچ میں داخل ہوئ انہوں نے حسرت بھری نگاہ ڈالتے ھوِِے کہا
 
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
 
اور آسمانوں کو یک بیک رنگ بدلتے ھوے تو ہم نے بھی دیکھا ھے، محسوس کیا ھے  ھم بھی کبھی اس ڈھاکہ میں تھے جو ھمارا تھا جہاں ھمارا بچپن گذرا تھا جہاں ھم نے معصوم شرارتیں کیں تھیں – جہاں میرے دادا، دادی اور نانا کی قبریں شائد اب بھی ھماری راہ تک رھی ھوں – جہاں ھم نے پہلے پہل کرکٹ کا بلا پکڑنا سیکھا تھا اور آصف اقبال کو ڈھاکہ اسٹیذیم میں بآؤنڈری کے پاس دوڑتے دیکھا تھا۔َ
 
پر 16 دسمبر 71 کو یک بیک سب کچھ بدل گیا، یکایک ھم محکوم ھوگۓ، ھم دشمن ٹہرادِۓ گۓ- مجھے وہ شام بخوبی یاد ھے  میرپور گیارہ نمبر کے باّّزار کے سامنے پیپل کے بڑے درخت کے نیچے افواج پاکستان کے اس گبھرو جوان کا چہرۃ مجھے اب بھی یاد آتا ھے جو بلک، بلک کر کہہ رہا تھا کہ اس سے تو بہتر تھا کہ ھم مر جاتے۔