Nation of Pakistan

Nation of Pakistan
Yes, We can bring change in Pakistan

Tuesday, January 18, 2011

Love for Masajid! | Nation of Pakistan

مسجدوں سے پیار کرنے والا انسان
ایک شخص نے یوں قصہ سنایا کہ
 میں اور میرے ماموں نے حسب معمول مکہ حرم شریف میں نماز جمعہ ادا کی اورگھر کو واپسی کیلئے روانہ  ہوئے۔ شہر سے باہر نکل کر سڑک کے کنارے کچھ  فاصلے پر ایک بے آباد سنسان مسجد آتی ہے، مکہ شریف کو آتے جاتے سپر ہائی وے سے بارہا گزرتے ہوئے اس جگہ اور اس مسجد پر ہماری نظر پڑتی  رہتی ہے اور ہم  ہمیشہ ادھر سے ہی گزر کر جاتے  ہیں مگر  آج جس  چیز نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی وہ تھی ایک نیلے رنگ کی فورڈ کار جو مسجد کی خستہ حال دیوار کے ساتھ کھڑی تھی، چند لمحے تو میں سوچتا رہا کہ اس کار کا اس سنسان مسجد کے پاس کیا کام! مگر اگلے لمحے میں نے کچھ جاننے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی کار کو  رفتار کم کرتے ہوئے مسجد کی طرف جاتی  کچی سائڈ روڈ پر ڈال دیا، میرا ماموں جو عام طور پر  واپسی کا سفر غنودگی میں گزارتا ہے اس نے بھی اپنی اپنی آنکھوں کو وا کرتے ہوئے میری طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھتا، کیا بات ہے، ادھر کیوں جا رہے ہو؟ 

Sunday, December 19, 2010

بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے Rashid Hussain

 
کہتے ہیں بحیثیت وزیر خارجہ 80 کی دہائ میں جب صاحبزادۃ یعقوب خاں بنگلہ دیش کے سرکاری دورے پر ڈھاکہ پہنچے تو انکے میزبانوں نے انہیں اس ہی گھر میں ٹہرایا جہاں کبھی وہ چیف مارشل لا ایڈمنسڈریڈرکی حیثیت میں رہتے تھے پر اب فرق صاف ظاھر تھا  ابکے وہ میزبان نہیں بلکے مہمان تھے چنانچہ جیسے ہی صاحبزادہ یعقوب کی گاڑی قیامگاہ کے پورچ میں داخل ہوئ انہوں نے حسرت بھری نگاہ ڈالتے ھوِِے کہا
 
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
 
اور آسمانوں کو یک بیک رنگ بدلتے ھوے تو ہم نے بھی دیکھا ھے، محسوس کیا ھے  ھم بھی کبھی اس ڈھاکہ میں تھے جو ھمارا تھا جہاں ھمارا بچپن گذرا تھا – جہاں ھم نے معصوم شرارتیں کیں تھیں – جہاں میرے دادا، دادی اور نانا کی قبریں شائد اب بھی ھماری راہ تک رھی ھوں – جہاں ھم نے پہلے پہل کرکٹ کا بلا پکڑنا سیکھا تھا اور آصف اقبال کو ڈھاکہ اسٹیذیم میں بآؤنڈری کے پاس دوڑتے دیکھا تھا۔َ
 
پر 16 دسمبر 71 کو یک بیک سب کچھ بدل گیا، یکایک ھم محکوم ھوگۓ، ھم دشمن ٹہرادِۓ گۓ- مجھے وہ شام بخوبی یاد ھے  میرپور گیارہ نمبر کے باّّزار کے سامنے پیپل کے بڑے درخت کے نیچے افواج پاکستان کے اس گبھرو جوان کا چہرۃ مجھے اب بھی یاد آتا ھے جو بلک، بلک کر کہہ رہا تھا کہ اس سے تو بہتر تھا کہ ھم مر جاتے۔
 

Friday, November 12, 2010

Justice Taqi Usmani about ISNA and Eid ul Adha Celeberation! | Nation of Pakistan

Before you plan to celebrate Eid-ul-Adha, either on November 16 or 17, please read  the following article which is worth reading before you decide.?
 


I have gone through the article of ISNA and with the utmost respect for their sentiment for Muslim unity, I am forced to say that the view expressed in the article (Eid al-Adha on next day of Arafat) is in total disagreement with the teachings of Quran and Sunnah, and with the Shari’ah position recognized throughout the centuries. This is an unprecedented view which has never been adopted by any of the Muslim jurists during the past 1400 years, and it has a number of intrinsic defects and anomalies, some of which are summarized here.

Saturday, November 6, 2010

A tribute to Dr. Zoha!Baba-e-Pharmacy


By Syed Rashid Husain

Dr. S.M.S. Zoha, fondly referred to as the baba-e-pharmacy in Pakistan, the founding dean of the faculty of Pharmacy, University of Karachi, revered and loved by his thousands of students, and dreaded and despised by some of his ‘friends’ – for his was a truly towering personality amidst the Lilliputians to be found all around, breathed his last in Karachi on Tuesday the 2nd of November 2010.
 
During the hey days of the University of Karachi, while Dr. Isthiaque Hussain Qureshi was at the helm, Dr. Zoha was regarded as one of the pillars of Karachi University.  Dr. Qureshi was instrumental in bringing Dr. Zoha into the University fold. And when he moved into the University, the salary that was on offer was one third of what he was getting at his then job. Decades later, in 80s, I once asked Dr. Zoha what prompted him to take up the university job at one third his earlier salary? And the answer remains ingrained in mind to this date: ‘I wanted to live for posterity and indeed I may have wanted to be driven in a chauffer driven Mercedes, yet that was not my need. My requirements could easily have been met by a rickshaw taking me to the University,’ the old fashioned that Dr. Zoha was said, rather emphatically.

Sunday, August 29, 2010

پاکستان کرکٹ پر میچ فکسنگ کا الزام ۔ آخر اور کبتک ذ لت اور رسوای | Q.Aziz


 
 
ایک بار پھر پاکستان کی کرکٹ ٹیم پر میچ فکسنگ کا الزام انگلینڈ کے ایک اخبار نے شہادتوں کے ساتھھ سامنے لایا ہے اور اسکاٹ لینڈ یارڈ کی پولیس اسکی تفتیش میں لگی ہوی ھے۔ اس بار تو اسمیں کافی حقیقت نظر آرہی ہے کیونکہ جو کوی بھی کرکٹ کھیلا ہوا ہے یا کرکٹ کے کھیل کو سمھجتا ہے اور جس کسی نے بھی لارڈز کا ٹیسٹ شروع دن سے دیکھا وہ سب حیران ہیں کہ عامر اتنی اچھی باولنگ کر رہا تھا اور اسکی باولنگ کی وجھہ سے انگلینڈ کے چار کھلاڑی آوٹ ہوچکے تھے اور سات کھلاڑی ١۰۲ رنز پر آوٹ ہوچکے تھے تو اچانک وہ نیگیٹف باولنگ کیوں کرنے لگا اور جسطرح سے اسنے نو بالیں کرایں وہ تو صاف لگ رہا تھا کہ جان بوجھہ کر کی گیی ہیں جسکا اشارہ مایک ھولڈنگ نے بھی اپنی کمنٹری میں کیا اور پھر کپتان کی فیلڈ ارینجمینٹ جس سے صاف لگ رہا تھا کہ بیٹس مین آرام سے رن بنایں اسکے بارے میں بھی مایک ھولڈنگ کہتا رہا کہ سلمان بٹ کیوں ایسا کر رہا ہے۔ اب سچای تو سامنے آہی جایگی اور اگر یہ سب انلوگوں نے جانتے بوجھتے کیا ہے تو اس بار اسکا نوٹس سپریم کورٹ کو لینا چاہیے کیونکہ انلوگوں نے پاکستان اور اسکی عوام کو جسطرح ساری دنیا کے سامنے شرمندہ کروایا ہے اور پوری قوم کو رسوا کیا ہے جو کوی بھی اسمے ملوس ہو ان سب پر تا عمر نہ صرف بینڈ لگنا چاہیے بلکہ انکے سارے اکاونٹ جو انہوں نے پاکستان کرکٹ سے بناے ہیں وہ سب سیز کر دینے چاہیے اور انہیں وہاں پہونچادینا چاہیے جہاں سے انہوں نے کرکٹ شروع کی تھی۔ لیکن ایسا کرے گا کون سواے سپریم کورٹ کے کیونکہ حکومت میں تو بیٹھے ہوے سب ہی ویسا ہی کچھ پاکستان کے ساتھھ کر رہے ہیں ۔