Nation of Pakistan

Nation of Pakistan
Yes, We can bring change in Pakistan

Tuesday, August 25, 2015

محبتوں کا خزانہ ہماری ثمینہ بھابھی











محبتوں کا خزانہ ہماری ثمینہ بھابھی





زندگی میں تو  لوگ آتے ہیں ملتے ہیں اور چلے جاتے ہیں  یہ تو اللہ کا بنایا اس دنیا کا نظام ہے اور ہم اسکو نہ چاہتے ہوے بھی قبول کسی طور کر ہی لیتے ہیں کیونکہ اس غم کو سہنے  اور صبر دینے والی ذات بھی ہمارے مولا کی ہی ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جنسے ہمارا کوی خونی رشتہ نہیں ہوتا ہے  وہ دنیا کے کسی موڑ پر کسی طور پر ملتے ہیں اور اپنی ایک ہی ملاقات میں ایک ایسا محبتوں کا خزانہ چھوڑ جاتے ہیں  کہ انسے اسکے بعد ملاقات ہو کہ نہ ہو انکی محبت انسے ملے ہر انسان کو اپنا  گرویدہ بنا لیتی ہے ۔

 میں نے اپنی زندگی کے اٹھاون سالوں میں  بہت کم شخصیت کو ملا یا جانا ہوں جن میں ایسی خاصیت ہوتی ہے   اور ایسی ہی ایک شخصیت ہماری ثمینہ بھابھی کی ہے جنسے مجھے اور میری بیوی کو پہیلی بار ملانے کا سہرا  انکے جیون ساتھی اور ہمارے دوست ظفر زیدی کو جاتا ہے کہ انکی وجہ سے ہم بھی جان سکے کہ محبت کا خزانہ اصل میں ہوتا کیا ہے کہ جو کوی بھی انسے ایک ہی بار ملا ہو وہ انکا اتنا گرویدہ ہوگا کہ شایداسے ایسا محسوس ہو وہ انہیں برسوں سے جانتا ہو–  کوی ایسا انسان  مجھے نہیں ملا جسنے  بھابھی کی تعریف نہ کی ہو ہر کوی انکا گرویدہ  ایسا کیسے بھابھی کرتی ہیں میں آج تک نہ سمجھ پایا  ایسا لگتا ہے کہ صرف اور صرف  سراپہ محبت  ہیں وہ۔

لیکن  میں تو جمعہ کی نماز پڑھکر گھر میں داخل ہی ہوا تھا کہ سارہ بٹیا کا روتے ہوے چیخ کے ساتھ  یہ کہنا کہ "ابا ثمینہ آنٹی ہم سب کو چھوڑ کر چلی گیں" اور اسوقت سعدیہ  بٹیا جو تھوڑی دیر کے لیے آیی  تھی   اپنے ننھے سے بچے کو گود میں لیے  بلبلا رہی تھی    روبی بلکل ساکت تھی یہ تو میں صرف اپنے گھر کا بتا رہا ہوں  جبکہ مجھے یقین ہے کہ نجانے کتنے گھروں میں ایسا یا اس سے زیادہ کرب کا ماحول ہو۔

 بھابھی یہ کیا کردیا آپنے  ! کیا  بھابھی ایسے بھی کوی جاتا ہے  آپنے یہ بھی نہ سوچا کہ ظفر آپکے  بن کیسے رہ پایگا   آپکی اکلوتی بٹیا سنمبل جو کہ آپکو اپنی  ماں کے روپ کے علاوہ آپ میں ہی  اسکو اپنی بہن اور دوست  مل چکا تھا وہ کیسے اپنے کو سنبھالے گی آپکے بیٹے کومیل اور زوہیر   کا کیا ہوگا  وہ تو  جو آپ انکو بول دیں  وہ بات تو وہ پھر کر کے ہی رہینگے  وہ  کس طور آپکے بنہ  رہ پاینگے۔

مجھے بہت اچھی طرح  وہ دن یاد ہے جب سارہ بٹیا کی شادی کے لیے میں کراچی جارہا تھا اور اس دن اتنی  زیادہ  برف گری تھی کہ میرا  ڈرایو وے برف سے اتنا بھر گیا تھا کہ گاڑی نہیں نکل سکتی تھی اور آپنے فون پر کہا تھا کہ میں کومیل اور فرحان کو بھیج رہی ہوں اور میرے منع کرنے کے باوجود آپکے وہ الفاظ آج تک میرے کانوں میں سنای دیتے ہیں کہ کیا  بھای یہ آپکے ہی تو بچے ہیں   اور ان دونوں بچوں نے آکر ساری برف ہٹای اور پھر  شاید ایرپورٹ بھی ان دونوں ہی نے مجھے چھوڑا تھا  وہ آپکی ہی  کہی بات تھی جسکو پورا کرنا آپکے بچوں کا مان تھا تو وہ کیسے رہ پایں گے  اور آپنے اپنی امی کا بھی نہ سوچا  جنکو آپنے کتنی چاہ سے پاکستان سے یہاں بلوایا تھا اور جو صرف  روتے روتے یہی کہہ رہی ہیں کہ اسنے تو ہمسے کہا تھا کہ امی اب میں جلد ہی آپکو اپنے یہاں رہنے والے بہنوں اور بھایوں اور بچوں سے ملواوں گی تو کیا اس طرح ملوایا جاتا ہے بھابھی ! نہی بھابھی  نہی ایسا ظلم نہ کرو آپ ہم سب پر –

آپنے کتنے مان سے فرحان بیٹا کو اپنا داماد بنا کر لای تھیں اور جو کہ میری نظر میں تو آپکا داماد نہیں بڑا بیٹا بن گیا پھر   آپنے کومیل بیٹے کی شریک حیات  کے لیے ایلیا بٹیا کو چنا اور شاید فرحان بیٹا اور ایلیا بٹیا  کا پیار  اور عزت سے آپکے ہر جاننے والوں کے ساتھ  پیش   آنا  یقین کریں کہ میں نے تو بہت ہی کم داماد اور بہو میں دیکھا ہے اور ایلیا بٹیا کے لیے تو میں سب سے ہی یہ کہتا ہونکہ  میرا اپنا تو کوی بیٹا ہے نہیں کہ بہو جیسے پیارے رشتے کو محسوس کر سکوں مگر بھابی اسمیں بھی سارہ کریڈٹ صرف آپکو ہی جاتا ہے کہ جسکی وجہ سے  اگر کسی کو میں نے دل کی گہرایوں سے اپنی بہو مانا ہے تو وہ ایلیا بٹیا ہے وہ جس طور میرے ساتھ پیار سے اپنا آرڈر دیتی ہے  جس میں صرف اور صرف پیار بھرا ہوتا ہے اور میں خاموشی کے ساتھ ہنستا ہوا اسکے دیے آرڈر کو مان لیتا ہوں   یہ سب آپ کا ہی دیا ہوا سارا پیار اور محبتیں ہیں جو ماشااللہ سے آپکے سارے بچوں نے اپنے اندر سما لیا ہے اور پھر زوہیر بیٹے کی شادی بڑی چاہ سے آپنے ریدا بٹیا سے کی   ابھی  اسکو آے بھی کچھ ہی عرصہ ہوا ہے مگر اسکا بھی پیار سے ملنا  بھابھی یہ سب صرف اور صرف آپکی ذات میں جو پیار بھرا ہوا  تھا ہر انسان کے لیے وہ کیسے  نہ آتا آپکے بچوں میں  !

 انکی شادی کے بعد آپکا  ہماری سارہ  بٹیا کو پیار کرتے ہوے یہ کہنا کہ اب میں اپنے سارے فرضوں سے فارغ ہو گیی  اور اسپر میرا یہ کہنا کہ بھابھی  کوی نہیں ابھی اور بھی بچوں کی شادیاں آپنے کروانی ہیں تو آپکا ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہوے کہنا کہ ہاں بھای بلکل  لیکن پھر ایک دن مجھے رات میں سحر بٹیا نے آکر کہا کہ ابا ثمینہ آنٹی   ہوسپٹل میں آی سی یو  میں ہیں  اور پھر آپکا ٹورنٹو جنرل ہوسپٹل میں شفٹ ہونا نجانے کیوں میرے ذہن کے کسی گوشے میں آپکی وہ بات ہر وقت سنای دینے لگی کہ  " اب میں اپنے سارے فرضوں سے فارغ ہو گیی  " اور اب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ بھابھی آپکو  پہلے سے اندازہ ہوہی گیا تھا اور ویسے بھی اللہ میاں  اپنے بہت ہی پیارے بندوں کو کہاں اپنے سے دور زیادہ  دیر تک رکھ سکتے ہیں  اور آپ تو تھیں ہی فرشتہ صفت تو وہ آپکو کس طور اس دنیا  میں زیادہ رہنے دیتے  اسی لیے جمعہ کے مبارک دن اور خاصکر جمعہ کی نماز کے وقت آپکو اپنے پاس بلا لیا۔  ہاں بھابھی اس بات کا تو ہم سب کو مکمل یقین ہے کہ  " كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ" کہ ہر نفس نے موت  کا ذآیقہ چکھنا ہے  مگر پھر بھی بھابھی آپ جیسی ہستیوں  کا  اتنے جلدی چلا جانا  جنکے پاس ہر کسی کے لیے صرف اور صرف  محبت پیار خلوص  اور چاہ ہو وہ بہت ہی زیادہ تکلیف دہ ہوتا  ہے۔

  بھابھی  اسکا  اندازہ کوی بھی کل اچھی طرح کرسکتا تھا  کہ میں نے تو اپنی تقریبا" بیس سالہ کینیڈا میں رہتے ہوے زندگی میں   نہیں دیکھا کہ کسی کو آخری الوداع کہنے کے لیے پوری مسجد بھری ہو اور اسمیں  نیو بورن  بچوں سے لیکر بزرگوں کی کثیر تعداد موجود ہو یہ بھابھی صرف اور صرف آپ جیسی ہستیاں ہی ایسا کچھ کرواسکتی ہیں۔   میں تو کبھی کسی طور آپکے ساتھ وہ لفظ جو اس دنیا سے جانے کے بعد لگایا جاتا ہے  شاید نہ کہہ پاوں  کیونکہ مجھے تو آج بھی ایسا لگتا ہے کہ کسی دن آپکا فون آجیگا  یا پھر آپ  ہماری طرف  یا ہم آپکی طرف آینگے اور آپکا ہمیشہ کی طرح  اس تصویر کی طرح مسکرا تا چہرہ ہم سے باتیں کرنا  شروع ہوجایگا اور سچ بھابھی میں روز آپکے گھر ظفر اور بچوں سے ملنے جارہا ہوں  اور اس امید کے ساتھ کہ کچھ دیر میں ہماری بھابھی کا مسکراتا چہرہ  اپنے سارے خلوص اور محبتوں کے ساتھ مجھے نظر آجیگا ۔ سبھوں کو اپنا بنا لینے کا کمال کچھ تو اپنے اس بھای کو بھی سکھادیتی  بھابھی ۔  ہم جیسے لوگ تو جو اس دنیا میں آتے ہیں اور  جب دنیا سے جاتے ہیں تو  شاید ہی چند لوگ  ہمیں یاد رکھ سکیں  لیکن آپ جیسے لوگ جنسے کوی انسان ایک بار ملا ہو وہ عرصے تک نہ بھلا پاے  ایسی کوالٹی  والے لوگ بہت انمول ہیں اور بہت ہی تھوڑے تو پھر تو اللہ کو ایسے تھوڑے لوگوں کو تو زیادہ ہی اس دنیا میں رکھنا چاہیے تاکہ اس  نفرتوں سے بھری دنیا میں محبتیں اور پیار ایک دوسرے کے لیے زیادہ سے زیادہ ہو۔  

بھابھی وہاں جہاں آپ گیی ہیں وہاں پر رہنے والے لوگ آپکو وہاں پر پاکر اللہ کا شکر ادا کرتے تھک نہیں رہے ہونگے کہ ایک محبت کا خزانہ انکے درمیان اللہ نے لادیا ہے ۔   مجھے پورا کامل یقین ہے اپنے مالک حقیقی پر کہ سارے جنتی کل سے جنت میں خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہونگے کہ اللہ نے انکے درمیان دنیا سے انکے پاس سراپہ خلوص و پیار سے بنی ایک شخصیت کو لادیا ہے لیکن انکو اس دنیا میں رہنے والے لوگوں کے حال کا اندازہ نہیں    کیونکہ انکا خلاہ کوی اور پورا کر ہی نہیں سکے گا سونا کر گیی اس دنیا میں  رہنے والے ان سارے لوگوں کو جو کبھی  ایک ہی بار  بھابھی  سے ملا ہو۔

بھابھی  آپکا خلوص پیار اور محبتیں میں کیا ہر وہ انسان جو آپسے ملا ہوگا  اپنی اس دنیاوی زندگی میں تو کبھی نہ بھلا پایگا  کیونکہ آپ ان کچھ لوگوں میں سے  ایک تھیں جو کہ اپنی ذات میں محبتوں کا خزانہ ہوتےہیں ۔


الوداع ہماری بھابھی ثمینہ الوداع

 

تحریر:  قوی العزیزعبدالمعید

Tuesday, July 21, 2015

Actions against Black Sheeps in Armed forces by COAS General Raheel Sharif



GENERAL RAHEEL SHARIF’S ACTIONS alongside BLACK SHEEP within the Armed forces



Major General Ejaz Shahid has neither been terminated or nor forcibly retired on deaths because of his son’s SPORTS CAR. Military Sources.

http://qaziz.com

 




Wednesday, June 17, 2015

Welcome Ya Ramadan



Welcome Ya  Ramadan!

Assalam U Alikum & Happy Ramadan!

Welcome Ya Ramadan
Alhamdullilah, Allah (SWT) has blessed us to witness and reach another Ramadan. The Prophet (PBUH) has called this month – a blessed month (شهر مبارك) and a great month.

Baihaqi reported on the authority of Salman Al-Farsi (Radhi Allah ‘Anh) that Prophet (Sallallaahu Alaihi Wasalaam) delivered a sermon on the last day of the month of Sha’ban. In it he (Sallallaahu Alaihi Wasalaam) said,

“O People! The month of Allah (Ramadan) has come with its mercies, blessings and forgiveness. Allah has decreed this month the best of all months. The days of this month are the best among the days and the nights are the best among the nights and the hours during Ramadan are the best among the hours. This is a month in which you have been invited by Him (to fast and pray). Allah has honored you in it. In every breath you take is a reward of Allah, your sleep is worship, your good deeds are accepted and your invocations are answered.

Whoever offers the recommended prayers during this month, Allah will save him from Hell, and whoever observes his obligations during this month, his reward will be seventy times the reward during other months. Whoever repeatedly invokes Allah’s blessings o­n me, Allah will keep his scale of good deeds heavy, while the scales of others will be tending to lightness. Whoever recites during this month an ayat (verse) of the Holy Qur’an, will get the reward of reciting the whole Qur’an in other months.

O people!, the gates of Paradise remain open during this month. Pray to your Lord that they may not be closed for you. While the gates of Hell are closed, pray to your Lord that they never open for you. Satan has been chained; invoke your Lord not to let him dominate you.”

May this be a season of blessings and abundant reward. I hope this month of Ramadan will lead us to the right pathway, to the path of success, happiness, peace and prosperity.

I pray to Allah for all my fellow brothers and sisters in Islam that as you open your door, I hope you’ll see happiness waiting for you to let it enter in your homes.
Happy Ramadan!

QaviAzizAbdulMoid
Copyright © *|2015|* *|QAziz.com|*, All rights reserved.
*|http://www.ramadan.qaziz.com|*

Our mailing address is:
*|qavimoid@gmail.com|*

Sunday, May 10, 2015

Ammi Jaan اؔمی جان




                اؔمی جان

يہ ايک ايسا خوبصورت لفظ ہے جو اس دنيا ميں صرف اور صرف ايک ايسے خوبصورت رشتے کی پہچان ہے جو ہر ايک اﷲ کی مخلوق کے ساتھہ تھی ہے اور جب تک یہ اﷲ کی بناٰی ہوی دنيا  قاٰيم  ہے یہ  انمول رشتہ جو کہ بلکول بے لوث، بے غرض، محبتوں کا سمندر، اپنی تکاليف کو بلکول بھولا کر اپنے بچوں کو ہر حال ميں خوشياں دينا، انکی زرہ سی تکليف ميں تڑپ جانا۔ يہ ہے وہ خوبصورت ہستی   ہماری  آپکی  ہمسب کی   اؔمی جان !
جب سے ہماری اؔمی جان اسں دنيا سے اپنے آخرت کی دنيا ميں رخصت ہویں اس دن سے آجتک ميں ہر کسی سے صرف اور صرف ايک ہی بات کہتا ہوں کہ جن جن کہ پاس جبتک چارہاتھہ موجود ھيں جو آﷲ تبارک تعالٰی کی بارگاہ ميں بے لوث، بغير کسی لالچ کے اٹھہ سکتے ہيں انہے تھامے رکھو اور جب صرف دو ہاتھہ رہ جاٴيں تو انھيں اور مظبوطی سے تھام لو کيونکہ جس دن وہ بھی نہ رہے تو تمھارے ليے اﷲ سے بے لوث دعا کرنے والا کوي نہوگا۔ جس دن سے ميری آمی جان اور پھر اباجان اس دنيا سے گيے ميں راتکو جب جب انکی ياد مجھے ترپاتی ہے تو آﷲ رب العزت سے انکے ان ساری تکلیفوں کی جو ان دونوں نے ہمارے اور صرف ہمارے لیے اس دنیا میں اٹھاٰی ہمارے لیے ساری ساری راتوں کا انکا جاگنا صبح سے رات تک کام کرنا کہ ہمیں کوی دکھہ یا تکلیف نہ ہو جو ھماری خوشی کے لیے جو بھی وہ کر سکتے تھے انھوں نے کیا تو میں اپنے رب سے یہی کہتا ہونکہ اندونوں سے جو غلطیاں جانتے میں یا انجانے میں ہوی تھیں تو انسبکو در گذر کر دے اور انکی قبروں کو جبتک یہ دنیا ہے کشادہ اور وہاں کے ہر سوال و جواب سے اندونوں کو محفوظ رکھنا اور اندونوں کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرنا آمین إ  
جانا تو ہر بشر نے ہے اس دنیا سے ایک دن جو کے ایک سب سے بڑی حقیقت ہے میں اپنے اﷲ کا ہمیشہ شکر گزار رہونگا کہ ہزاروں میلوں کی دوری کے باوجود اسنے مجھے  میری ؔامی جان  اور اؔبا جان کو اپنے ہاتھوں سے انکی لحدوں میں اتارنے کا شرف بخشا  ورنہ  زندگی بھر   انکو انکے آخری وقت میں نہ دیکھنے اور ملنے کا ملال رہ جاتا۔
میری نظر میں اس دنیا میں سب سے زیادہ بدنصیب  مفلس اور قلاش وہ اولادیں ہیں جو اپنے والدین کو انکی زندگی میں سکھ چین اور خوشیاں نہ دے سکیں اور ساتھ ہی ساتھ جیسا کہ ہمارے رب نے کہا کہ جس کسی نے اپنے والدین کو دکھ دیا انہیں تکلیف دی  تو ان کو نہ صرف  وہ سب انکی اولادوں  کے زریعے وہ سب اس دنیا میں خود بھی دیکھنا پڑیگا اور پھر مرنے کے بعد کیا جواب دینگے جب والدین کے حوالے سے پوچھا جاے گا۔اﷲ سب کو اپنے اپنے والدین کی عزت خوشی پیار اور انکی خدمت کرنے کا موقع عنایت کرے اور جنکے والدین  اس دنیا سے جا چکے ہیں وہ اپنی ہر دعا میں انکی مغفرت   اور جنت میں داخلہ  اور انکی قبروں کو  ہمیشہ منور و کشادہ رکھے آمین یا رب العالمین۔
یہ میں صرف اپنی اؔمی جان اؔبا جان کے لیے نہیں  بلکہ دنیا میں بسنے والی ہر  اولاد جو اب میری طرح ان بےلوص دعاوں سے محروم ہیں شاٰید انسب کی دلی غمازی کر رہا ہوں۔
ہمارے دلوں میں انکا پیار اور محبتیں کبھی بھی صرف ایک روز ایک ہفتہ ایک مہینے کے لیے نہیں ہو سکتی انکے اس پیار کا کوی مول ہو ہی نہیں سکتا وہ تو جب تک ہے جاں تبتک ہر دن یاد رہینگی کیونکہ
ہم ہر بات بھلانے کو تیار ہیں مگر انکے پیار کو  نہیں بھلا سکتے
جب تک ہے جاں جبتک سانس باقی ہے وہ ہر پل ہمارے ساتھ ہیں

قوی العزیز عبدالمعید